ضدی سے ضدے بخار کاعلاج جوکسی سے ٹھیک کرنے کانقسہ

ضدی سے

 ڈیلی کائنات ! آپ کے لیے ڈھیروں دعائیں دل سے نکلتی ہیں ۔آپ عبقری کے ذریعے دوسروں کی خدمت کررہے ہیں‘ لاکھوں لوگوں کی رہنمائی اور بھلائی ہورہی ہے۔ ہم سب گھر والے دل سے آپ کے شکرگزار ہیں اللہ تعالیٰ آپ کو صحت وتندرستی اور لمبی زندگی اور دن دگنی رات چگنی ترقی دے۔ آمین! آج میں آپ کو پہلی مرتبہ خط لکھ رہی ہوں۔ میں ایک نسخہ لکھ رہی ہوں جو کہ میرا آزمودہ ہے۔ اگر کسی کو بخار ہو اور ساتھ نہ چھوڑ رہا

ہو‘ ذرا سی ہوا چلنے یا ہلکی سی ٹھنڈ لگنے سے بخار ہوجاتا ہو تو جس وقت بخار نہ ہو یعنی تھوڑی دیر کے لیے اترا ہو تو اسی وقت نیم گرم پانی ایک گلاس لیں اس میں آدھا چمچ نمک ڈال کر پی لیں۔ انشاء اللہ دوبارہ بخار نہ ہوگا بخار (fever) کسے کہتے ہیں اس کی کتنی قسمیں ہیں؟ اس کی وجوہات، اسباب کیا ہیں اور اس کا علاج کیا ہے؟ ایک معالج کیلئے ان چیزوں کو سمجھنا بڑا ہی آسان ہوتا ہے اور علاج بھی ۔ بخار کے علاج میں بالعموم وہی دافع بخار دوا Paracetamol اور اپنے اپنے تجربہ کے لحاظ سے الگ الگ Antibiotic دوا کا استعمال ڈاکٹر حضرات کرتے ہیں اور آرام سے مطب کرتے ہیں ۔ اس دافع بخار دوا Paracetamol سے شائد ہی کوئی مطب خالی ہو۔ ہم لوگ بھی زمانہ طالب علمی ( اجمل خاں طبیہ کالج علیگڑھ مسلم یونیورسٹی (1991 تا 1996) میں یہی سمجھتے رہے تھے کہ بخار کو اتارنے میں یونانی ادویہ ناکام ہیں قرص حمی وغیرہ کا نام تو سنا اور پڑھا تھا۔ امتحان پاس کرنے کیلئے یونانی نسخہ لکھے بھی تھے اور یاد بھی لیکن یقین نہیں تھا کی

ہماری یہ ادویہ بھلا بخار کا بخار اتار سکیں گی۔ لیکن جب مطب شروع کیا تو یہ ٹھان لیا کی صرف یونانی ادویہ سے ہی علاج کریں گے۔۔۔ کتابوں کا مطالعہ کریں گے۔۔ دواؤں کو آزمائیں گے ناکامیاں ہمیں مزید کیلئے اکسائیں گی۔۔۔ اسی تلاش و جستجو کے ذریعہ بہر حال حسب ذیل نسخہ کے ذریعہ بخار کے علاج میں کامیابی ملی بالعموم وہ مریض جنہیں Typhoid بخار ہے اور وہ انگریزی ادویہ کھا کھا کر تھک چکے ہوتے تھے محض یہ جوشاندہ ( چرائتہ چھ گرام گلو چھ گرام افسنتین چھ گرام ، یہ ایک پڑیا ہے) ایسی دس پڑیا پلا دینے سے ہی وہ ٹھیک ہو جاتے تھے کسی کو دس پڑیا اور کسی مریض کو بیس پڑیا پکا کر چھان کر پینا ہوتا ہے اور ضعف و نقاہت کو دور کرنے کیلئے خمیرہ مروارید کا اضافہ کر دیتا تھا۔میں پورے اعتماد سے مطب کررہا تھا اور الحمدللہ اسی نسخہ سے میرے بخار کے مریض مکمل شفا پاتے تھے۔ اس نسخے نے پچھلے پندرہ سالوں سے کبھی خطا نہیں کیا۔۔۔۔ ایک دن میرے مطب

پر ایک مریض آیا یہی کوئی ۲۰ سال عمر رہی ہوگی اس نے بتایا کہ وہ موضع چاند پٹی اعظم گڑھ سے آیا ہے اسے ہلکا ہلکا بخار پچھلے چار سالوں سے ہر وقت رہتا ہے۔۔۔ اور پیٹ میں ہلکی تکلیف رہتی ہے کوئی ثقیل غذا کھانے پر معدہ بھاری ہوجاتا ہے اور متلی آنے لگتی ہے ( ایسا ایلو پیتھک دوا کے کثرت استعمال سے ہو جایا کرتا ہے) کمزوری و نقاہت دن بہ دن بڑہتی جارہی ہے مریض نے بتایا کہ میں “پچھلے چار سالوں سے اپنے اس بخار کا علاج کررہاہوں جانچ میں ٹائیفائڈ ہی نکلتا ہے ڈاکٹر ٹائیفائڈ بخار کا ایک کورس چلاتے ہیں جب آرام نہیں ہوتا تو کہتے ہیں کہیں اور جاؤ میں نے چاند پٹی بازا میں مشہور معالج جناب ڈاکٹر نیاز احمد صاحب کا علاج کرایا علاج میں ناکامی ہونے پر اسی بازار میں ایک دوسرے ڈاکٹر جناب ڈاکٹر ابرار احمد فلاحی علاج کرایا اسکے علاوہ اعظم گڑھ شہر کے کئی MD ڈاکٹر کے یہاں علاج کیا بس وہی وقتی فائدہ بلآخر بغرض علاج میں نے ممبئی کا سفر کیا وہاں کئی

ڈاکٹروں کو دکھایا جانچ چیک اپ رپورٹ میں وہی ٹائیفائڈ۔۔۔۔لیکن علاج سے کچھ بھی فائدہ نہیں۔ تھک ہار کر یونانی علاج کیلئے آپ کے پاس آیا ہوں۔ مریض اپنے ہاتھ میں علاج و معالجہ کی ایک موٹی فائل لیے تھا میں نے “ھوالشافی” لکھ کر حسب ذیل دوائیں دیں۔۔ جوشاندہ حمی آدھا گلاس پانی میں پکا کر چھان کر شربت بزوری بیس ملی لیٹر ملاکر پینا ہے صبح خالی پیٹ دوبارہ پھر وہی پڑیا پکا کر شربت ملاکر پینا ہے شام چار بجے اور ضعف ونقاہت کو دور کرنے کیلئے خمیرہ مروارید ایک چمچہ رات سوتے وقت کھانے کیلئے دیا۔ دس بعد وہ مریض آیا اور کہا کہ مجھے کچھ بھی فائدہ نہیں ہوا میں نے اسکو دس دن کیلئے وہی نسخہ پھر سے Repeat کیا کیونکہ کسی کسی مریض کو بیس دن تک بھی پلانا پڑتا ہے۔ وہ بیس دن دوا پی کر آیا اور بتایا اسے کچھ بھی فائدہ نہیں ہوا۔ مجھے حیرت ہوئی میں گہری سوچ میں پڑ گیا۔۔ ۔۔ تلاش و جستجو نے مجھے نئے دروازوں کو کھٹکھٹانے کیلئے آمادہ کیا

دوران مطالعہ “حمی مواظبہ “اور حمی لثقہ” سے کافی رہنمائی ملی۔۔حمی لثقہ۔لثق کے معنی تری (بلل) کے ہیں۔ اس بخار کا نام لثقہ اس وجہ سے رکھا گیا کہ اسکے عوارض میں نرمی پائی جاتی ہے۔جسکو بلغمیت کی طرف منسوب کیا جاتا ہے صفراوی بخاروں کی طرح حدت و شدت نہیں ہوتی ( ترجمہ کبیر ج چہارم ص ۱۲۱)حمی مواظبوہ عفونی بخار ہے جسکی باری روزانہ آئے اس بخار کا نام مواظبہ اس وجہ سے رکھا گیا کہ یہ ہمیشہ اور ہر روز آتا ہے ( ترجمہ کبیر ج چہارم ص ۱۷۸)اس بخار میں پسینہ بھی کم نمایا ہوتا ہے۔ یہ بخار لمبا ، دیر پا، مزمن ہوتا ہے اور گاہے چند ماہ تک قائم رہتا ہے ( ترجمہ کبیر جلد چہارم ص ۱۸۰)حمی لثقہ میں حمی مواظبہ کی ساری علامتیں پائی جاتی ہیں لیکن یہ بخار لرزہ سے خالی ہوتا ہے ۔حمی لثقہ یہ بخار حمی دق سے نہایت مشابہ ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے کہ اسکی حرارت بھی دق کی طرح زیادہ تیز نہیں ہوتی اور نہ کبھی اترتی ہے۔ بلکہ نرم و دائمی ہوتی

ہے اور چھونے والے کو بدن کی حرارت چھوتے ہیں معلوم نہیں ہوتی بلکہ کچھ دیر کے بعد جب کہ دیر تک ہاتھ بدن پر چھوڑ دیا جاتا ہے( ترجمہ کبیر ج چہارم ص ۱۸۲)حمی لثقہ و حمی مواظبہ میں یہ فرق ہے کہ حمی مواظبہ پسینہ آکر پورے طور پر اتر جاتا ہے یا اگر پورے طور پر نہیں اترتا ہے تو خفیف سی حرارت باقی رہ جاتی ہے جسے بخار کا اترنا ہی کہا جا سکتا ہے لیکن حمی لثقہ میں ان دو باتوں میں سے کوئی ایک بات بھی نہیں ہوتی ہے یعنی نہ تو بخار پورے طور پر اترتاہے اور نہ ہی ایسی حالت پیدا ہوتی ہے جسے بخار اترنے کے کہا جائے ۔ یہ بخار لرزہ یا سردی سے شروع نہیں ہوتا یہ ایک لازمی بخار ہے جسمیں باری نہیں آتی ۔ (ترجمہ کبیر ج چہارم ص 196)اس بخار کے علاج کے ذیل میں حسب ذیل سطور نے نئی راہیں کھولیں۔۔”ایسے بخار کو روکنے کیلئے مخصوص دوائیں کھلائی جاتی ہیں جنکو مانعات حمی اور مانعات حرارت کہتے ہیں مثلاً افسنتین ، غافث ، کرنجوہ، برگ

ببول وغیرہ” ( ترجمہ کبیر ج چہارم ص ۱۸۲)”حب کرنجوہ ”یہ حب بلغمی بخار میں مفید و مجرب ہے اور بالخاصہ مانع نوبت ہے نسخہ پیپل، مغز کرنجوہ ہر ایک ایک تولہ زیرہ سفید ، برگ ببول ہر ایک چھ ماشہ سب کو باریک پیس کرگوندھ کر چنے کے برابر گولیاں بنا کر استعمال کریں( ترجمہ کبیر ج چہارم ص 196) میں نے جلدی جلدی کرنجوہ خرید کر توڑ کر اسکا مغز نکالا۔ سفوف کیا اور تنہا کرنجوہ کی ہی بڑی مٹر کی سائز کی گولیاں بنائیں اور جوشاندہ حمی کے ساتھ حب کرنجوہ دو دو گولی صبح خالی پیٹ اور شام چار بجے کھانے کیلئے دیا اور نقاہت کے ازالہ کیلئے خمیرہ مروارید ایک چمچہ رات سوتے وقت کا اضافہ کیا دس دن کیلئے دوائیں دیکر رخصت کردیا مریض دس دن بعد لوٹا وہ بہت خوش تھا اس نے کہا کہ اسے بہت آرام ہے اس دس دن میں ایک بار بھی بخار نہیں آیا میں نے انہیں دواؤں کو دس دن کیلئے مزید دے دیا دس دن بعد مریض بہت ہشاش بشاش تھا اس نے کہا کہ وہ اب الحمدللہ

مکمل ٹھیک ہے۔ وہ بخار جو پچھلے چار سالوں سے تھا اب اس مرض سے بالکلیہ نجات مل چکی ہے۔ مجھے میری محنت کا پھل مل چکا تھا لیکن مجھے ابھی اپنے اس نسخہ کو یقینی بنانے کیلئے مزید تجربوں کی ضرورت تھی مجھے اور مریضوں پر اس دوا کو استعمال کرنا تھا کہ ایک دوسرا مریض میرے مطب پر آیا اور اس نے کہا کہ “حکیم صاحب میں خود پیشہ سے ڈاکٹر ہوں میں نے بی یو ایم ایس بینا پارہ طبیہ کالج اعظم گڑھ سے کیا ہے اور پچھلے پندرہ سالوں سے میں سرکاری ڈاکٹر ہوں مجھے چار پانچ سالوں سے مسلسل ہلکا بخار رہتا ہے جس سے منہ کا ذائقہ کڑوا رہتا ہے، کھانے میں لذت نہیں ملتی پورے بدن خاص کر پنڈلیوں میں درد رہتا ہے رات میں اسی درد کی وجہ سے نیند بہت کم آتی ہے اکثر راتوں میں اٹھ کر اپنے ہاتھوں سے اپنے پیروں کو دباتا ہوں تب کچھ آرام ملتا ہے ۔ بہت علاج کیا لیکن یہ ہلکا بخار ساتھ نہیں چھوڑتا اور اب تو تھک ہار کر میں یہ کرتا ہوں کہ Ceftriaxon 1gm

+ Amikasin ملاکر آٹھ دن وریدی انجکشن لیتا ہوں تو دو ماہ تک بخار سے کسی قدر نجات ملتی ہے لیکن طبیعت تب بھی پوری طرح Fresh نہیں رہتی اور عضلات میں درد تو کسی بھی صورت میں کم نہیں ہوتا”میں نے پورے اطمینان سے جوشاندہ حمی + حب کرنجوہ دو دو گولی صبح خالی پیٹ اور شام چار بجے اور عضلات کے درد کیلئے حب اسگند تین تین گولی صبح شام بعد طعام اور ضعف و نقاہت کو دور کرن ے کیلئے قرص جواہر مہرہ دو ٹکیہ صبح خالی پیٹ اور خمیرہ مروارید ایک چمچہ رات سوتے وقت کھانے کی ہدایت کی۔ ڈاکٹر صاحب دس دن بعد دوبارہ مطب پر تشریف لائے وہ بہت خوش تھے دوا استعمال کرنے کے اگلے دن سے ہی انہیں بخار نہیں آیا میں نے یہی دوا انہیں مزید بیس دن کیلئے دی یعنی کل ایک مہینے تک علاج کیا وہ بالکل ٹھیک ہو گیے۔ انہوں نے مطب پر آکر بتایا کہ انہیں اب دوا کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے میں تو بس ملاقات کیلئے آیا ہوں۔ طب یونانی اس قدر مفید و

موثر ہے مجھے کبھی یقین نہیں آرہا تھا لیکن جس بخار کے علاج میں میں انگریزی دواؤں سے تھک چکا تھا صرف ایک ماہ کے یونانی علاج سے بحمدللہ مکمل ٹھیک ہو گیا۔میں نے اسی جیسے بخار کو “ضدی بخار” کا نام دیا ہے اور اس ضدی بخار کا یہی شافی علاج ہے اس دوا کا استعمال پورے اعتماد سے جاری ہے۔ابھی دو ماہ قبل MDR TB ( Multidurg resestant TB) مریضہ جسکا بخار اتر ہی نہیں رہا تھا اور کھانسی بھی رک نہیں رہی تھی TB کا مکمل علاج ہونے کے بعد بھی اسکی یہ کیفیت تھی اعظم گڑھ شہر کے مشہور معالج ڈاکتر سید شہاب الدین MBBS MD کے یہاں اسکا علاج جاری تھا ( مضمون کے آخر میں ڈاکٹر صاحب کا پرچہ منسلک ہے) اس مریضہ کے سرپرست میرے مطب پر آیے بتایا کہ ہلکا بخار مسلسل رہتا ہے اترتا ہی نہیں اور اسے شدید کھانسی آتی ہے کبھی سوکھی کبھی بلغمی مریضہ کی بھوک بالکل سے غائب ہے۔ یہ میرے لئے بالکل نیا کیس تھا اس مریضہ کو

TB کا پورا کورس چل چکا تھا MD ڈاکٹر نے اسکے پرچے پر اوپر ہی MDR TB نمایاں طور پر لکھ رکھا تھا۔(MDR is caused by TB bacteria that is resistant to atleast isoniazed and refampicin ) میں نے ابھی تک کسی ایسے مریض کو محض یونانی دواؤں کے سہارے چھوا نہیں تھا لیکن اللہ کا نام لیکر ہمت کرلی

Leave a Comment